Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak

عنوان صفحہ
حروف آغاز باب نمبر 1
لشکر امام مہدی کے ہر اول دستے کا سالار شہید اسامہ
شیخ اسامہ کا امت مسلمہ کے نام اخری پیغام 19
اسامہ بنام امت مسلمہ 27
شیخ اسامہ کی شہادت پر امارت اسلامیہ افغانستان کا اعلامیہ 36
شہید اسامہ صحرا سے سمندر تک
گھریلو حالات اور خاندانی پس منظر 38
تعلیم اور دین سے محبت 39
ازدواجی زندگی 41
جہاد افغانستان میں شرکت 41
مکتب الخدمات 42
عرب کا شاہزادہ 42
شیخ اسامہ اور فقہ حنفی 47
شیخ اسامہ کی والدہ کا خواب 48
اسامہ اپنا وعدہ کب پورا کرو گے؟ 48
حضرت خالد بن ولید کی شخصیت کا آیئنہ دار 49
ماں کی خواہش اور قدرت کا انعام 50
گھڑ سواری اور شیخ اسامہ 50
امام مہدی کے لئے مختص کی گئی رقم 50

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 1

عنوان صفحہ
جہاد افغانستان میں شیخ کی خدمات باب نمبر 2
تنظیم القاعدہ والجہاد 52
شیخ اسامہ روس کے خلاف جہاد میں 53
معرکہ جاجی کی کہانی شیخ کی زبانی 55
شیخ اسامہ نے جہاد افغانستان سے کیا سیکھا 57
القاعدہ کا قیام اور مقاصد 58
سعودی عرب واپسی اور امریکی جزیرہ العرب میں آمد 59
شیخ اسامہ کی جزیرۃ العرب میں قائم امریکی اڈوں کی نشاند ہی 63
امت کے وسائل کا پاسبان 63
امریکی منصوعات کا بائیکاٹ 64
سوڈان میں پانچ سال قیام 65
سوڈان سے افغانستان ہجرت کے سفر کی روداد شیخ اسامہ کی زبانی 66
امریکہ کے خلاف اعلان جہاد اور مسجد اقصیٰ کی آزادی 67
نائن الیون اور شیخ کی شخصیت کا عروج باب نمبر 3
شیخ کے اوصاف، اتباع سنت، حیا اور غیرت 69
صلیبی جنگ کے دس سالوں میں مجاہدین کی قیادت 70
شیخ کی خواہش شہادت 71
شیخ اسامہ کی سی آئی سے سے خفیہ جنگ 71
شیخ اسامہ کی شہید یا گرفتار کرنے کی امریکی کوشش 72
سی آئی اے کے بن لا دن یونٹ کا قیام 73

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 2

عنوان صفحہ
سوڈان اور افغانستان میں کروز میزائلوں سے حملے 73
Operation JawBreaker-5 73
تورا بورا کا تاریخی معرکہ 74
شیخ اسامہ کی حکمت عملی اور امریکہ کا معاشی نقصان 76
شیخ اسامہ بن لادن ڈاکٹر عبد اللہ عزام کی نظر میں 77
شیخ اسامہ کی بیماری کے بارے میں پھیلائی جھوٹی خبروں کی حقیقت 80
شیخ اسامہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد نصرہ اللہ کی نظر میں 82
شیخ اسامہ کے کارہائے نمایاں باب نمبر 4
مسجد اقصیٰ کو دنیا کا مسلہ نمبر ایک بنانا 89
بلادحرمین پر امریکی قبضے کو نمایاں کرنا 90
حرمت رسول کا تحفظ 92
مقصد زندگی کی وضاحت 92
جہاد کو امریکا اور اس کے حواریوں سے پاک کرنا 97
اسلامی خطوں میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ کی دعوت 100
شیخ اسامہ کا چار خطوں کو داراسلام بنانے کی خواہش 102
پاکستان 103
تحفظ حرمین کا قیام 104
امارت اسلامی افغانستان کی سرپرستی 104
دفاع افغانستان کونسل 105
سعودی عرب 105
سوڈان 106

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 3

عنوان صفحہ
افغانستان 109
طالبان سے تعلق اور امیر المومنین 109
دنیا کے مسلم خطوں میں جہاد کی اٹھان میں شیخ اسامہ کا کردار 109
یمن 112
صومالیہ 114
عراق 116
الجزائر 117
شیشان 118
بوسنیا 119
جموں و کشمیر 120
فلپائن 120
چین کے صوبہ سنکیانگ 122
امیر المومنین ملا عمر نصرہ اللہ کی بعیت شرعی فریضہ 122
شیخ کے مختلف بیانات سے اقتباسات 128
اہلیہ شیخ امل الصداح کا شیخ اسامہ کے ساتھ شہادت کا فیصلہ 136
شیخ اسامہ کی اہلیہ کا عربی اخبار سے انٹرویو 137
شیخ اسامہ کی شہادت باب نمبر 5
صلیبی آپریشن “جیرونیمو” 138
موبائل کا حال جس نے ایبٹ آباد پہنچایا 144
شیخ اسامہ کی شہادت پر یہود و نصاریٰ کے بیانات 152

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 4

عنوان صفحہ
شیخ اسامہ کی شہادت، عرب ذرائع ابلاغ کا رد عمل 155
شیخ اسامہ کے اہل خانہ کی رہائی فرض بھی، قرض بھی 157
ابتاہ (اے میرے ابو) 158
ایران میں اسیر رہنے والے شیخ کے اہل خانہ 160
دنیا بھر میں شیخ اسامہ کے حق میں مظاہرے 161
پاکستانی علمائے کرام کا شیخ اسامہ کو خراج تحسین اور تاثرات باب نمبر 6
مفتی نظام الدین شامزئی شہید کا ایک یاد گار فتویٰ 163
مفتی رشید احمد صاحب بانی جامعہ الرشید ہفت روزہ ضرب مومن کراچی 164
مفتی مولانا عتیق الرحمنٰ کے شیخ کے بارے میں تاثرات 165
مولانا عبد اللہ شہید لال مسجد اسلام آباد کا قصیدہ 166
جرنیل اسلام مولانا اعظم طارق شہید کا شیخ اسامہ پر بیان 169
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ 180
حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ المدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ 180
مفتی داؤد صاحب مدظلہ العالیٰ، جامعہ اشرافیہ لاہور 181
مولانا عبدالمالک صاحب، مرکز علوم اسلامیہ لاہور 181
مفتی ابو محمد امین اللہ پشاوری صاحب حفظ اللہ 182
مولانا مفتی اسماعیل طور و مدظلہ العالی جامعہ اسلامیہ راولپنڈی 182
مولانا سید ضیاء الدین صاحب مدظلہ العالی 182
مولانا عصمت اللہ امیر جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) خراج تحسین 182

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 5

عنوان صفحہ
مولانا عبدالغفور حیدری جمعیت علمائے اسلام (ف) کا خراج تحسین 183
مفتی کفایت اللہ ایم پی اے جمعیت علمائے اسلام (ف) کا خراج تحسین 183
قائد مجلس احرار سید عطاء المومن شاہ بخاری دامت برکاتہم 184
سینیٹر خالد سومرو 184
شیر کی موت پر ہمیشہ کتے رقص کرتے ہیں 184
حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جان صاحب دامت برکاتہم 184
حضرت مولانا مشتاق صاحب دامت برکاتہم العالیہ و جامعہ فاروقیہ 186
راولپنڈی 190
اسامہ اسلام سے تھا، اسامہ سے اسلام نہیں تھا۔ 190
حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم کے پوتے مولانا محمد ابراہیم صاحب مدظلہ العالی 197
شیخ اسامہ کی شہادت آج لاکھوں شہادتوں سے بڑی شہادت ہے 197
مولانا عبدالستار صاحب مدظلہ العالیٰ مسجد بیت السلام، ڈیفنس کراچی 201
مولانا محمد سلیمان بالا کوٹی مدظلہ العالیٰ 201
عالمی تحریک جہاد کا اسامہ کی شہادت پر خراج تحسین باب نمبر 7
شیخ ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظ اللہ 203
اسامہ کی شہادت پر دولتہ العراق الاسلامیہ کا بیان 204
ابو بکر الحسینی البغدادی عراق 204
شیخ ابو بصیر ناصر الوحیشی (امیر عالمی جہاد فی جزیرۃ العرب) 205

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 6

عنوان صفحہ
شیخ ابو مصعب عبدالودود حفظ اللہ (امیر عالمی جہاد فی بلا المغرب) 205
قیادت عامہ حرکتہ الشباب المجاھدین 207
شوریٰ جماعت التوحید و الجہاد (بیت المقدس) 208
عالمی شخصیات کا خراج تحسین باب نمبر 8
امام کعبہ شیخ عبد الرحمن السدیس کا شیخ اسامہ کو خراج تحسین 211
جامعتہ الازھر مصر 212
ریاض الشریعۃ کالج کے سابق ڈین کے تاثرات 212
جامعہ توحید انڈونیشیا کا خراج تحسین 212
فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ کی امریکی مذمت 212
چیچن کمانڈر عمروف 213
شیخ حامد العلی 214
ملا عبدالسلام ضعیف کا شیخ اسامہ کو خراج تحسین 215
اسامہ کے بڑے بیٹے عمر بن لادن اور ان کے خاندان کے تاثرات 215
برطانوی صحافی یوآن رڈلی مریم کے تاثرات 215
شہید اسلام اسامہ بن لادن عرب علماء کی نظر میں خراج و تاثرات باب نمبر 9
لاہور کے ایک میڈیکل کالج کی طالبات کے تاثرات 223
شیخ اسامہ سیاست دانوں کی نظر میں 227
کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترو کے تاثرات 227
نوم چومسکی امریکی دانشور کے تاثرات 227

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 7

عنوان صفحہ
نیوزی لینڈ کے رکن پارلیمنٹ کا شیخ اسامہ کو خراج تحسین 227
سندھ اسمبلی میں اقلیتی رکن کے تاثرات 227
صلیبی مصنفین کی آراء 228
دو سپر پاورز سے ٹکرانے والا تاریخ کا واحد شخص 234
شیخ اسامہ بن لادن کالم نگاروں کی نظر میں 238
شیخ اسامہ کی شہادت کا بدلہ، امریکی کمانڈر و مردار باب نمبر 10
ہیلی کاپٹر کو جھانسا دے کر مار گرایا گیا 253
وردگ میں تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کی بابت امارت اسلامیہ کا موقف 254
ہیلی کاپٹر میں ہلاک اہلکار اصل ہیروز تھے، امریکہ 256
شنیوک کی تباہی 257
امریکی معیشت افغان جنگ کے باعث تباہ و برباد
امریکا میں آنے والا مالی طوفان اور افغانستان کی جنگ! 264
اسلام کا ہیرو نمبر 1 (نظم) 267
References کتابیات 269

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 8

شیخ سامہ کی طرف سے امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد نصرہ اللہ کی اطاعت کا تحریری عہد نامہ

“حضرت امیر المومنین! اسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!

اللہ تعالیٰ نے آپ کو شمال کی تازہ ترین فتوحات سے نوازا۔ یہ ہمارے لیے خوش گوارلمحہ ہے کہ ہم آپ کو ان فتوحات پر مبارک باد پیش کریں اور اپنے عہد کی تجدید کریں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، ہم اسلام کی نصرت، اسلام حکومت کے استحکام اور اللہ کے کلمہ کی بلندی کے لیے آپ کے ہاتھوں میں ہاتھ دیں۔ یہاں تک کہ فساد ختم ہو جائے اور دین اللہ کا ہو جائے۔ ہم اس موقع پر اس عہد کا بھی اعادہ کرتے ہیں کہ آپ ہمارے شرعی امیر ہیں۔ ہم آپ کی نصرت اور اطاعت اسی طرح واجب ہے جس طرح شرعی حاکم کے لیے واجب ہوتی ہے۔ ہم تمام مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آپ کی نصرت و حمایت اور آپ سے مل کر ہر وہ مدد کریں جو وہ کر سکتے ہوں”۔

واسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ’

اپ کا بھائی اسامہ بن لادن

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 9

جلال الدین بادشاہ نہ تھا صرف خوارزم کا شہزادہ تھا۔ وہ چنگیز کی مزاحمت کے سلسلے میں حکمت عملی پر اختلاف کی وجہ سے اپنے والد سے الگ ہو گیا تھا۔ اس نے چنگیز کے مقابلے کے لیے اپنی اہلیت اور اپنے وسائل سے عسکری قوت فراہم کی اور ریاستی قوت کے بغیر چنگیز خان کو چیلنج کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس نے کئی معرکوں میں چنگیز خان کو شکست دی۔ اس نے فوجی کمک کے لیے خلیفہ بغداد سے مدد طلب کی۔ خلیفہ نے ایک لاکھ فوجی فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر چنگیز خان کے سفیر نے خلیفہ کو چنگیز کی طاقت سے ڈرا دیا۔ چنگیز کے سفیر نے کہا کہ جلال الدین تو آج کی اصطلاح میں دہشت گرد ہے۔ اس کا کوئی ٹھور ٹھکانہ نہیں۔ وہ بغداد کو چنگیز سے لڑا کر خود بغداد کی خلافت پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ چنانچہ خلیفہ بغداد نے وعدے کے باجود جلال الدین کی مدد سے انکار کر دیا۔ لیکن جلال الدین بغداد اور چنگیز خان کی یلغار کے درمیان آخری چٹان تھا۔ یہ چٹان ہٹی تو تاتاریوں نے دیکھتے ہی دیکھتے بغداد پر یلغار کرکے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 10

یکم مئی 2011ء کی رات تین ہیلی کاپٹر بلال ٹاؤن کی فضاؤں میں آئے۔ اس دوران میں ایک ہیلی کاپٹر سے امریکی مرینز اسامہ بن لا دن کے گھر میں اتارے گئے۔ اسامہ کے گھر میں حفاظت پر مامور مجاہدین نے امریکی کمانڈوز پر فائرنگ کی اور ان کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں معتدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، مقابلے کے دوران میں ہی مجاہدین نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر گرایا۔ اسامہ کے محافظ اور ایک فرزند خالد بن لادن صلیبیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ امریکی فوجی بالائی منزل پر شیخ کی تلاش میں گئے، جہاں اسامہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم تھے، وہاں ان کے فائرنگ سے اسامہ کی ایک اہلیہ شہید ہو گئیں۔ اس واقعے میں اسامہ کے ایک بیٹے حمزہ بن لادن کے محفوظ طریقہ نکل جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ اسامہ کے دو ازواج، دس سالہ صفیہ اور دیگر کچھ خواتین کو بعد ازاں پاکستانی فوج نے گرفتار کر لیا۔

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 11

کہ اس اثنا میں عراقی صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کر دیا۔ جس کی وجہ سے سعودی حکمران ڈر گئے اور اس کے خلاف عالم کفر کی لونڈی اقوام متحدہ سے مدد لینے کی ٹھان لی جس کی ہم نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ اے شاہ ہم عراقیوں سے نمٹ لیں گے تم اس پاک سر زمین پر کفار کے ناپاک قدم مت جماؤ کیوں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے دور میں ان کے ناپاک قدموں کو ہمارے آباؤ اجداد نے برداشت نہیں کیا تو ہم یہ کیسے کر سکیں گے۔ ہماری بات کو رد کرتے ہوئے شاہ نے وہ قدم اٹھالیا جو آج تک تمام مسلمانوں کے لیے و بال جان بن گیا۔ میری مخالفت کی وجہ سے مجھے نظر بند کر دیا گیا۔ مگر اللہ کے شہروں کو زیادہ دیر پنجروں میں رہنے کی عادت نہیں تب مجھے سعودی عرب بدر کر دیا گیا اور میں خرطوم چلا گیا۔

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 12

گھریلو حالات اور خاندانی پس منظر شیخ اسامہ بن محمد بن لادن 10 مارچ 1957ء کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا تعلق شام سے تھا۔ شیخ اسامہ کے خاندان کا تعلق یمن سے ہے۔ جنوبی یمن کا ساحلی صوبہ حضرت الموت عدن کی بندرگاہ کے مشرق میں واقع ہے۔

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 13

محمد بن لادن شاہ سعود (دوم) کے قریبی دوست سمجھے جاتے تھے۔ جب شاہ فیصل نے اقتدار سنبھالا تو ملک شدید ترین اقتصادی بحران کا شکار تھا۔ محمد بن لادن نے اس نازک مرحلے پر حکومت کا بھرپور ساتھ دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق چھ ماہ تک سعودی حکومت کے ملازمین کی تنخواہیں اپنی جیب سے ادا کیں۔

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 14

10 سال کی عمر میں شیخ نے برومانا ہائی سکول میں داخلہ لیا۔ یہ سکول لبنان کے علاقے برومانا میں واقع تھا۔ یہاں انہوں نے ایک سال سے کم عرصہ گزارا۔ برومانا ہائی سکول چھوڑنے کے بعد وہ کچھ عرصہ لتا کیہ میں رہے۔ پھر وہ واپس جدہ چلے گئے۔ 1969-1976ء کے دوران میں انہوں نے الگر ماڈل سکول میں تعلیم حاصل کی۔ 1979ء میں انہوں نے جامعہ ملک عبدالعزیز سے ایم پی اے (ماسٹر آف پبلک ایڈ منسٹریشن) کی ڈگری حاصل کی اور جامعہ ملک السعود سے اسلاملک اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری لی۔ شیخ کو دین سے محبت ان کے والد محمد بن لا دن سے ورثے میں ملی۔ ان کا خاندان جزیرہ عرب کے عام لوگوں کی طرح امام احمد بن حنبل کا مقلد ہے۔ شیخ نے کبھی مغربی ممالک میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ اس حوالے گردش کرنے والی خبریں سراسر کذب وافترا پر مبنی ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں۔

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 15

سعودی حکومت، مسجد کو اس وقت تک نہ چھڑا سکی جب تک فرانسیی افواج نے اس کی مدد نہ کی۔

جہاد افغانستان میں شرکت:

انہوں ںے یونیورسٹی کے بعض اساتذہ سےراہنمائی لی اور کراچی آگئے۔

شروع میں اسامہ ایک ماہ تک خفیہ طور پر پاکستان میں رہے اور حالات کا بغور جائزہ لیتے رہے۔ پھر وہ سعودی عرب واپس چلے گئے۔ وہاں انہوں نے دیگر عرب شیوخ میں مجاہدین کی مدد کے لیے مہم چلائی۔ ان کی تحریض سے ہزاروں عرب نوجوانوں نے میدان جہاد کا رخ کیا آپ نے ہی ان کے سفری اخراجات اٹھائے اور ان کے لیے معسکر تعمیر کیے۔ اسامہ سعودی عرب سے بڑی تعداد میں سامان اور سرمایہ اکٹھا کرکے پاکستان آئے اور افغانی بھائیوں کے ساتھ جہاد میں حصہ لینے لگے۔

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 16

مکتب الخدمت

1980ء میں شیخ عبد اللہ عزام پشاور یونیورسٹی ٹاؤن میں مکتب الخدمت قائم کیا۔ جبککہ 1984ء میں شیخ اسامہ نے “بیت الانصار” کے نام سے جہادی گروپ قائم کیا۔ شیخ مالی طور پر ان کے سب سے بڑے پشتی بان تھے۔ انہوں نے بہت سے گیسٹ ہاؤس کرائے پر لئے ہوئے تھے۔ جہاں عرب سے آنے والے مجاہدین کو ٹھہرایا جاتا تھا اور انہیں فکری و جسمانی تربیت دی جاتی تھی۔

1989ء میں جب شیخ عبد اللہ عزام ایک کار بم دھماکے میں شہید کر دئے گئے تو عرب مجاہدین کے قائدے کے طور پر شیخ کی شخصیت ابھر کر سامنے ائی۔

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 17

صلیبی جنگ شروع ہونے سے پہلے شیخ (اسامہ بن لادن) کے کچھ ساتھیوں کو ایران نے گرفتار کر لیا، تو شیخ (اسامہ بن الادین) نے انہیں دھمکی دی اور کہا کہ “انہیں باعزت رہا کر دو، ہم نے ابھی تک اپنی بندوقوں کا رخ تمہاری طرف نہیں موڑا” چنانچہ انہوں نے ان سب کو رہا کر دیا۔

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 18

شیخ اسامہ کی والدہ کا خواب

جب شیخ (اسامہ بن لادن) کو سوڈان سے چلے جانے کو کہا گیا تو شیخ نے فرمایا کہ میں اپنی ماں سے حکم کے بغیر کہیں نہیں جا سکتا۔ پھر انہوں نے اپنی والدہ کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ چند روز کے بعد تمہیں بتاؤں گی کہ کہاں جانا چاہئے۔

چند روز بعد والدہ نے اپنے بیٹے کو فون پر بتایا کہ انہوں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسری طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور درمیان میں اسامہ بن لادن بیٹھے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسامہ کو تھپکتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ اسے کہاں بھیجیں؟ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ اسے افغانستان بھیج دیتے ہیں۔

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 19

ایک بار آپ گھوڑے سے گرے، آپ کی ہڈی ٹوٹ گئی، پاکستان کے معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر عامر عزیز نے آپ کا علاج کیا اور اس ‘جرم’ کی پاداش میں ڈاکٹر عامر عزیز کو آئی ایس ائی اور سی ائی اے نے کئی ماہ تک گرفتار رکھا۔

Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak 20

Pakistan A Personal History

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top