Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat

12 مطالعہ سے پہلے گزارشات
15 مقدمہ
20 پہلا باب: تکفیر کے مسائل میں اہل سنت کا اسلوب
20 تکفیر حق: اہل سنت کا مسلک
24 خوارج کون؟
25 خوارج کی نشانیاں
33 دوسرا باب: جمہوریت کا بیان
33 جمہوریت کے بارے میں معتدل بحث کی ضرورت
39 جمہوریت کیا ہے؟
39 جمہوریت کے معنیٰ
39 جمہوریت کی تعریف
41 کیا جمہوریت اور اسلام ایک چیز ہیں؟
41 جمہوریت کو اسلامی کہنے والوں یا اسلامی انقلاب کا ذریعہ بنانے والوں کے دلائل
41 جمہوریت کو کفر کہنے والوں کے دلائل
42 جمہوریت کی اصطلاحات اور ان کا مفہوم
42 آئین بمعنیٰ شریعت
43 نظریہ بمعنیٰ شریعت
43 قانونی بمعنیٰ حلال
43 غیر قانونی بمعنیٰ حرام

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 1

43 ڈیوٹی بمعنیٰ فرض
44 کیا ووٹ شرعی مشورہ ہے؟
45 جمہوری انتخابات کی مثال
45 معاہدہ اور صلح کا تصور، شریعت اور جمہوریت میں
47 صورت مسئلہ
47 جمہوری اصطلاحات کو نہ سمجھنے کے خطرناک نتائج
51 خلاصہ بحث
52 دعوت میں اصطلاحات کا استعمال
53 جمہوریت اور اسلاف امت و اکابرین وقت
57 مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند مفتی محمود حسن گنگوہی کا فتویٰ
59 جمہوریت قرآن و سنت کی روشنی میں
59 جمہوریت کا خمیر عین کفر ہے
59 کیا جمہوریت ایک الگ دین ہے؟
60 جمہوریت کے اندر کفریہ باتیں جو اس کا لازمی جزو ہیں، ان کے بغیر جمہوریت کا وجود ممکن نہیں
61 جمہوریت کے سینے میں چھپے کفر
65 پارلیمنٹ کے بارے میں اہم سوال
66 جمہوریت میں انفرادی آزادی بھی نہیں
67 جمہوریت میں نماز کی آزادی نہیں
67 جمہوریت کا کارنامہ: قادیانیوں کو کافر قرار دیا جاتا
69 جمہوری قانون سازی اور اسلام
74 شریعت کے خلاف قانون سازی کرنے والا خود کو الٰہ اور معبود بناتا ہے
76 اللہ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنا
77 اگر سچے ہو تو دلیل لاؤ
78 حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے والے کا حکم

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 2

81 اسلام کے بعض قوانین کو آئین کا حصہ بنانا
86 ضروریات دین کا انکار
87 خروج عن اسلام کی بحث
87 زمینی حقیقت
93 تیسرا باب: اللہ کی شریعت کے علاوہ کسی اور قانون سے فیصلے کرنا (الحکم بغیر ما انزل اللہ)
94 اللہ کی شریعت کے علاوہ کسی اور قانون سے فیصلہ کرنا
96 تنبیہ
96 آیت کا شان نزول
99 ومن لم یحکم بما انزل اللہ اور مفسرین کرام
100 فائدہ
101 قرآن کے قانون پر ایمان لانا: ایک شبہہ اور اس کی وضاحت
101 وضاحت
102 فائدہ
105 تنبیہ
108 وضاحت
110 آیت کی تفسیر اور تاریخی پس منظر
113 یہاں کافر ہونے سے کیا مراد ہے؟
116 جمہوری عدالتیں اور جج
117 علمائے حق سے چند گزارشات
119 اسلام کے ساتھ دوسرا دین قبول نہیں
120 غیر اللہ کو اللہ کے برابر درجہ دینا
126 حکم بغیر ما انزل اللہ کو ایک بار کرنے اور اس کو عادت بنا لینے میں فرق، اور اس کو بطور آئین (شریعت) نافذ کر دینا!

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 3

127 تنبیہ
127 قرآن کے علاوہ سے فیصلہ کرتی عدالتوں کو اسلامی ثابت کرنا
128 ومن لم یحکم بما انزل اللہ اور فقہائے امت
130 کفر اکبر کی عام لیکن سب سے ناپاک صورت
131 اللہ پر بہتان اور جھوٹ کی جرات
131 اللہ کی شریعت کے علاوہ کسی اور قانون سے فیصلہ کرنے کا حکم، خلاصہ، بحث
135 چوتھا باب: جمہوریت میں شریک افراد اور جماعتوں کا حکم
135 جمہوریت پر من و عن ایمان رکھنے والے لادین سیاست دانوں اور فوجی افسروں کا حکم
136 اعتراض
139 منافق اور منکر میں فرق ملحوظ رکھے!
139 کیا جمہوریت، محمد ﷺ کی شریعت سے بہتر ہے؟
141 اللہ کی لعنت سے بچو
141 خواہشات کی بنا پر اللہ کی شریعت کا انکار کرنا
143 جمہوری نظام کے تحت مخلص ہوکر شریعت کے لیے کوشش کرنا؟
146 غیر اسلامی راستے سے اسلام کا غلبہ ممکن نہیں
148 نولہ ما تولی کا مطلب اور اہل جمہوریت کے لیے عبرت
149 جمہوریت کے جھنڈے اٹھانا حرام ہے
150 جمہوریت کفر ہے لیکن اس نظام میں شامل سب لوگ کافر نہیں!
151 موانع تکفیر (کسی خاص کلمہ گو کو کافر قرار دینے کی احتیاطیں)
153 کسی پر کفر کا حکم لگانا عام آدمی کا کام نہیں
155 جمہوریت اور بعض علماء
158 مسئلہ تکفیر میں علماء کے مابین نرمی اور شدت کی حقیقت

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 4

158 عوام کے لیے علماء کی اتباع کا ضابطہ
159 غیر اسلامی نظاموں نے دنیا کو کیا دیا
166 پانچواں باب: اسلامی نظام کے لیے مسلح جدوجہد
166 جمہوریت یا “مجلس شوریٰ” نہیں، صرف خلافت اسلامیہ
168 خلافت (نفاذ شریعت) کے لیے مسلح جدوجہد
168 تم بہترین امت ہو
175 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑنا
177 فائدہ
180 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اجر
181 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اعلیٰ درجہ، قتال
182 اس امت کی پہچان، سینوں میں کتاب اللہ، کاندھوں پر تلوار
184 جہاد کے فضائل کے اسباب
185 ہندوستان کے مسلمانوں پر بھی جہاد فرض عین ہے
187 تنبیہ
193 کون کس کے لیے لڑتا ہے؟

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 5

Democracy کے معنی:

یہ لفظ اصلاً یونانی ہے جو دو لفظوں سے مل کر بنا ہے۔ Demos اور Kratos

Demos کے معنی: People یعنی عوام

Kratos کے معنی: Rule یعنی حکمت

یعنی: Rule of the People یعنی عوام کی حکمت۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 6

د۔ اس جمہوریت میں شامل بعض مذہبی حضرات اس نظام کو کسی درجے میں کفر تو مانتے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اضطرار (مجبوراً) اس نظام میں شامل ہوتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے وہ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کر سکیں۔ ہندوستان میں مذہبی سیاسی لیڈروں کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ اگر وہ اس نظام کو اختیار کر کے پارلیمنٹ نہ جائیں تو مسلمانوں کے حقوق کی آواز کون اٹھائے گا۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 7

تمام فقہاء کے نزدیک صلح صرف اسی صورت میں جائز ہے جبکہ اسلام کو اس کا فائدہ ہو، اس کے بغیر صلح جائز نہیں۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 8

البتہ اگر کوئی فوج یا پولیس والا ان غیر شرعی اقدامات کو حرام سمجھتا ہو، خود کو گناہ میں ملوث تسلیم کرتا ہو اور حرام کو حلال ٹھہرانے کا مرتکب نہ ہو تو اسے کافر نہیں بلکہ صرف فاسق کہا جائے گا۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 9

حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ فرماتے ہیں:
افغانستان کے اندر طالبان کی حکومت آئی اور اسلامی شریعت آئی، کب آئی؟ جب سولہ لاکھ انسان شہید ہوئے، دس لاکھ آدمی معذور ہوئے، کسی کا ہاتھ نہیں، کسی کا آنکھ نہیں، کسی کا کان نہیں، کسی کی ٹانگ نہیں….. اللہ تعالیٰ مفت میں کسی کو نہیں دیتے جب تک کہ قربانیاں نہ ہوں۔ تو پاکستان میں لوگ یہ سمجھا کرتے ہیں کہ طالبان کی حکومت ہو یا طالبان

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 10

آیت کی تفسیر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
مَنْ جَحَدَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنْ أَقَرَّ بِهِ وَلَمْ يَحْكُمْ بِهِ فَهُوَ ظَالِمٌ فَاسِقٌ۔
جو اللہ کی حدود (سنگساری، کوڑے مارنا وغیرہ) میں سے کسی بھی قانون کا انکار کرے، تو وہ کافر ہو گیا۔ اور جس نے ان سب باتوں کا اقرار کیا لیکن ان قوانین کے مطابق فیصلے نہیں کیے تو وہ ظالم و فاسق ہے۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 11

“اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ جو اللہ کے قانون کا انکار کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے، تو وہ تو واقعی کافر ہوگیا، اور جو اس قانون کا اقرار کرے اور اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہ ظالم و فاسق ہے۔” 55
قرآن کے قانون پر ایمان لانا….. ایک شبہہ اور اس کی وضاحت:
ومن لم يحكم بما أنزل الله کے بارے میں اسلاف نے جو یہ فرمایا ہے جاحدا بہ (یعنی جو اللہ کے قانون کا انکار کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے، تو وہ واقع کافر ہوگیا)، اس سے لوگوں کو شاید یہ شبہ ہوا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے جو شخص قرآن کا حصہ یا اللہ کا نازل کردہ ہونے کا یقین نہ رکھتا ہو، چنانچہ اگر کوئی اس پر ایمان رکھتے ہوئے قرآن کے قانون کے علاوہ سے فیصلے کرتا ہے تو وہ کفر اکبر نہیں بلکہ کفر مجازی یا کفر دون کفر (یعنی چھوٹا کفر) قرار دیا ہے۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 12

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حسن بصری نے فرمایا: یہ آیت مسلمانوں اور یہودیوں اور دیگرکفار میں سے ہر اس شخص کے بارے میں عام ہے جو اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے۔ یعنی جو اللہ کی شریعت سے فیصلہ نہ کرے اور اپنے اس فعل کے صحیح اور (قانونی) ہونے کا نظریہ رکھتا ہو ( تو وہ شخص صریح کافر ہے)۔ البتہ جو اس کام کو حرام سمجھتے ہوئے کرے تو وہ فاسق مسلمانوں میں سے ہے۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 13

حضرت ابو مجلزؒ بڑے تابعین میں سے ہیں اور آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے تھے۔ جبکہ بنو عمرو بن سدوس کے جو لوگ آپ سے بات کرنے آئے تھے یہ لوگ پہلے حضرت علیؓ کے ساتھ تھے۔ بعد میں خوارج بن گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ علیؓ اور تمام صحابہؓ نعوذ باللہ مرتد ہوگئے۔ دلیل کے طور پر وہ اس آیت کو پیش کرتے تھے کہ جو اللہ کے نازل کردہ سے فیصلہ نہ کرے وہ کافر ہے۔ چنانچہ اس بحث نے اس دور میں زیادہ زور پکڑا۔ لہٰذا صحابہؓ اور تابعینؒ نے ان کے جواب میں یہ فرمایا کہ اس آیت سے جو تم حضرت علیؓ اور دیگر صحابہؓ میں کفر ثابت کرنا چاہتے ہو، وہ یہ نہیں ہے۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 14

سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ شریعت میں کفر کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔

ا۔ کفرِ اکبر: اس کو کفرِ حقیقی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایسا کفر ہے جو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔


ب۔ کفرِ اصغر: اس کو کفرِ مجازی بھی کہتے ہیں۔ اسی کو علماء ’’کفر دون کفر‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ ایسا کفر ہے جو دائرۂ اسلام سے خارج نہیں کرتا۔

لیکن اگر کوئی قرآن کے قانون سے فیصلہ کرنے کو واجب سمجھتا ہے، لیکن عملًا اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا، اپنے اس عمل کو گناہ سمجھتا ہے تو یہ کفرِ اصغر ہے، جو اسے اسلام سے خارج نہیں کرتا۔ ایسا شخص فاسق ہے۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 15

اس بات کو امام صدر الدین، ابن ابی العز حنفیؒ (731ھ تا 796ھ) نے شرح عقیدہ الطحاویہ میں مزید تفصیل سے بیان کیا ہے۔
وهنا أمر يجب أن يتفطن له، وهو: أن الحكم بغير ما أنزل الله قد يكون كفراً ينقل عن الملة، وقد يكون معصية: كبيرة أو صغيرة، ويكون كفراً؛ إما مجازاً، وإما كفراً أصغر، على القولين المذكورين، وذلك بحسب حال الحاكم:
یہاں اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے، وہ یہ کہ اللہ کی شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنا، بھی ایسا کفر ہوتا ہے جو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتا ہے، اور بھی گناہِ کبیرہ یا صغیرہ ہوتا ہے، اور بھی کفرِ مجازی یا کفرِ اصغر ہوتا ہے۔ اس بات کا تعلق حاکم کی حالت سے ہے۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 16

اور اگر وہ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کو واجب سمجھتا ہے، اور اس فیصلے میں اس کو اللہ کے قانون کا علم بھی تھا، پھر اس قانون سے فیصلہ کرنے سے روگردانی کر جاتا ہے، اس اعتراف کے ساتھ کہ اس عمل سے وہ عذاب کا مستحق ٹھہرے گا، تو ایسا حاکم (یا ریاست — راقم) گناہگار ہے۔ اس کو ایسا کافر کہا جائے گا جو کفرِ مجازی یا کفرِ اصغر میں مبتلا ہے۔
اور اگر اس فیصلے میں اللہ کے قانون سے ناواقف ہو، لیکن اس قانون کو جاننے کی حتیٰ الامکان جدوجہد اور کوشش کی، پھر فیصلے میں غلطی کر گیا تو وہ “غلطی کرنے والا” کہلائے گا۔ اس کو اس کے اجتہاد کی نیکی ملے گی اور اس کی خطا معاف ہے۔73

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 17

”اور صحیح بات یہ ہے کہ قرآن کے علاوہ سے فیصلہ کرنے میں دو قسم کا کفر ہو سکتا ہے، (ایک) چھوٹا کفر، (دوسرا) بڑا کفر، اس کا دارومدار حاکم کی حالت پر ہے……“ 75

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 18

اول، اس جرم کی وہ صورت جو اگرچہ عظیم گناہ ہے مگر دین سے خارج کرنے کا باعث نہیں:
  • یہ کہ بحیثیتِ مجموعی شرعی نظام و شرعی قانون نافذ ہو اور ایک ایسا قاضی ہو جو شرعی قوانین کو واجب العمل سمجھتا ہو اور ان کے ترک پر خود کو گناہ گار سمجھے، مگر کسی ایک آدھ واقعے میں ہوائے نفسانی، اقرباء پروری یا رشوت خوری کی بناء پر شریعت سے ہٹ کر فیصلہ کر دے، تو اگرچہ یہ سنگین جرم ہے مگر انسان اس کی بناء پر دین سے خارج نہیں ہوتا بلکہ فاسق و ظالم قرار پاتا ہے، اور زیادہ سے زیادہ کفرِ اصغر کا مرتکب سمجھا جاتا ہے۔
  • یہ کہ ایک پورا نظامِ عدلیہ اور نظامِ حکومت ہی ایسا ہو جہاں شرعی احکام بحیثیتِ مجموعی معطل ہوں اور ان کی جگہ انسانوں کے گھڑے ہوئے قوانین نافذ ہوں، اور اس میں شریک قاضی یا جج انہی انسانی قوانین کے مطابق فیصلے کرتا ہو، مگر خود کو شدید گناہ میں مبتلا سمجھتا ہو، اس نظام سے غیر راضی ہو، اور اس میں محض اس نیت سے شریک ہو کہ چونکہ اربابِ اختیار اس کے سوا کسی قانون کو نافذ نہیں کرنے دیں گے، اس لیے عوام کے جائز حقوق انہیں دلوانے کے لیے وہ اضطراراً اس میں کام کر رہا ہے، اور جیسے ہی شرعی قوانین کے نفاذ کا موقع ملے گا، وہ انہیں نافذ کرنے سے لمحہ بھر نہیں رکے گا، تو ایسا شخص کفرِ اصغر کا مرتکب ہے، جو اگرچہ گناہ کی ایک نہایت بھیانک صورت ہے، مگر دین سے خارج کرنے کا باعث نہیں، بلکہ اس کا مرتکب فاسق اور ظالم ہوگا، اس کی گواہی قبول نہیں ہوگی، یہ حرام نوکری کرے گا، اور اس کی تنخواہ بھی حرام ہوگی۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 19

جمہوریت کفر ہے لیکن اس نظام میں شامل سب لوگ کافر نہیں!
اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت ایک مستقل دین ہے، چنانچہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کھلا انکار ہے۔ لیکن اس سے یہ مطلب لینا ہرگز درست نہیں ہوگا کہ جو شخص بھی اس نظام میں شریک نظر آئے اس پر آنکھیں بند کرکے کفر کا حکم لگا دیا جائے۔ کیونکہ کسی مسلمان کے قول یا عمل کا کفر ہونا ایک مسئلہ ہے اور اس قول یا فعل کے ارتکاب کے سبب خود اس شخص کو کافر قرار دینا دوسرا مسئلہ ہے۔ اس نازک اور اہم فرق کی طرف متوجہ نہ ہونے اور افراد پر کفر کا حکم لگانے میں بے احتیاطی کرنے سے وہ غلو جنم لیتا ہے جسے نبی ﷺ نے امتوں کی ہلاکت کا باعث قرار دیا ہے۔

ارشاد نبی کریم ﷺ ہے:
يا أيها الناس إياكم والغلو في الدين فإنه أهلك من كان قبلكم الغلو في الدين
“اے لوگو! خبردار! دین میں غلو سے بچنا! کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے ہلاک کیا۔” 101
1۔ تکفیر مطلق: کسی کفریہ قول یا فعل کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ کفر ہے۔ اس میں اس قول یا فعل کا عام حکم بیان کیا جاتا ہے، کسی فرد کو خاص نہیں کیا جاتا۔
2۔ تکفیر معین: کسی کفریہ قول یا فعل کے مرتکب شخص کو خاص کرکے اس کو کافر کہنا۔ اس میں خاص فرد پر حکم لگایا جاتا ہے۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 20

موانعِ تکفیر
(کسی خاص کلمہ گو کو کافر قرار دینے میں احتیاطیں)
موانعِ تکفیر سے مراد وہ رکاوٹیں ہیں جو کسی مرتکبِ کفر شخص کو کافر ہونے سے بچاتی ہیں۔ اگر کوئی کفریہ قول یا فعل کسی مسلمان سے سرزد ہو جائے تو شریعت اس پر فوراً کافر ہونے کا حکم نہیں لگاتی بلکہ کچھ توقف کرتی ہے۔ یعنی کسی مسلمان کے کفریہ قول و فعل کے باوجود اس کو فوراً کافر نہیں کہتی۔ بلکہ اس صورت میں بھی چند باتیں ایسی ہیں جو اس کو کافر ہونے سے بچا سکتی ہیں، جن میں سے اہم موانع کی طرف مختصر اشارہ یہاں کیا جاتا ہے۔
ا۔ عذرِ جہل
جہالت یعنی لاعلمی کا عذر کسی مسلمان سے کفریہ قول یا کفرِ اکبر کا ارتکاب ہو جانے کے باوجود بہت سی صورتوں میں خود اس مسلمان کو کافر قرار دینے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس بات کو تمام اہلِ علم نے فتویٰ کے اصول و آداب میں نقل کیا ہے۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 21

ب۔ اکراہ یعنی مجبوری:
کسی کفر کو اختیار کرنے کے لیے جان سے مارنے یا جسم کے کسی بنیادی عضو کو تلف کرنے کی دھمکی دی جائے، اور غالب گمان بھی یہ ہو کہ اگر اس نے کلمۂ کفر نہیں کہا تو اسے قتل کر دیا جائے گا یا اس کے جسم کا کوئی بنیادی عضو تلف کر دیا جائے گا، تو ایسی صورت میں کلمۂ کفر کہنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر قائم اور مطمئن ہو۔
ج۔ تاویل کا عذر:
کسی مسلمان میں کفریہ چیز پائی جانے کے باوجود اس کو کافر قرار دیے جانے میں ایک رکاوٹ “تاویل” بھی ہو سکتی ہے۔ مثلا کسی کا یہ تاویل کرکے جمہوریت میں آنا کہ اگرچہ وہ اس نظام کو غلط سمجھتا ہے لیکن چونکہ اس کے خیال میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا، اس لیے وہ اس کے ذریعے سے شریعت لانے کی کوشش کرے گا۔

اگرچہ ہمیں اس تاویل سے اختلاف ہے اور اس تاویل کو غلط ثابت کرنے کے لیے درجنوں دلائل دیے جا سکتے ہیں، اور اگرچہ اس تاویل کے ساتھ بھی اس غلیظ کفریہ نظام میں شریک ہونا ایک سنگین جرم ہے، لیکن یہ تاویل بہت سی صورتوں میں جمہوریت میں شریک شخص کو کافر قرار دیے جانے سے روک دیتی ہے۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 22

کسی پر کفر کا حکم لگانا آدمی کا کام نہیں:
بعض موانع تکفیر کا بیان ہم نے یہاں اختصار سے کردیا تا کہ ہمارے قارئین اس فرق کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ کتاب میں دی گئی ساری بحث بنیادی طور پر اس نظامِ جمہوریت و دینِ جمہوریت کا کفر ثابت کر رہی ہے۔ لیکن اس میں شریک متعین افراد یا جماعتوں پر حکم لگانا یہاں ہمارے پیش نظر نہیں۔ نیز جمہوریت کو کفر کہنے سے سیدھا یہ لازم نہیں آتا کہ اس میں کسی بھی سطح پر کسی بھی انداز سے شریک ہونے والے تمام لوگ ہمارے نزدیک بلا تفریق دین سے خارج ہوگئے ہیں۔ یہ نہ تو ہم نے کہا ہے اور نہ ایسی غیر محتاط اور مبنی بر غلو آراء اختیار کرنا مجاہدین کا طریقہ ہے۔ اس کتاب سے ایسا کوئی مفہوم اخذ کرنا ہر گز درست نہیں ہوگا۔

نبی کریم ﷺ کا یہ مبارک فرمان:
«إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا»
“جس نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو یہ کفر ان دونوں میں سے ایک کی طرف لوٹے گا۔”103

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 23

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا يَجْتَمِعُ رَجُلَانِ فِي الْجَنَّةِ أَحَدُهُمَا قَالَ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ»
”دو مرد جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے جن میں سے ایک نے دوسرے مسلمان بھائی کو کافر کہا“۔105
پس اگر کوئی شخص کسی کفر میں مبتلا ہے تو عام آدمی اس وقت تک اس کو کافر نہ کہے جب تک علماء حق اس کے کافر ہونے کا فتویٰ نہ دیں، البتہ اس کفریہ عمل کو کفر ضرور کہا جائے گا۔
یوں تکفیر کی بحث کے اعتبار سے لوگوں کو ہم تین درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
ا۔ عام مسلمان: کسی بھی عام مسلمان کے لیے (خواہ مجاہد ہی کیوں نہ ہو) جائز نہیں کہ وہ ان مباحثِ کو پڑھ کر عام لوگوں پر یا کسی عالم پر کفر کے فتوے لگاتا پھرے۔ ایسا کرنا یقیناً اس کے ایمان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ لہٰذا غیر عالم کو صرف اتنا کرنا ہے کہ خود کو اور اپنے گھر والوں اور اقارب کو اس کفر سے بچانا، نہ کہ دوسروں پر حکم لگانا۔
ب۔ عالم: اہلِ علم حضرات خود کو اس کفر سے بچائیں اور جمہوریت کا کفر لوگوں کے سامنے بیان کریں۔ البتہ کسی خاص جماعت، افراد یا کسی عالم پر کفر کا حکم لگانا ہر عالمِ دین کا کام بھی نہیں کیونکہ اس کام کے لیے علم میں گہرائی و رسوخ کی ایک خاص سطح درکار ہے، جو کم کم علماء کو میسر ہوتی ہے۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 24

ج. محقق علماء: کسی کو کافر کہنا، یہ ہر کس ونا کس کا کام نہیں، بلکہ انتہائی نازک مسئلہ ہے۔
جمہوریت اور بعض علماء:
یہاں یہ سوال یقیناً کیا جائے گا کہ اگر جمہوریت کفر ہے تو پھر بعض علمائے کرام اس نظام میں کیوں شریک ہوتے ہیں، اور ان کا کیا حکم ہے؟
وہ علماء جو اس نظام میں شریک ہوئے اور اب اس دنیا سے جا چکے، ان کے بارے میں ہم یہی کہیں گے کہ ان پر اس جمہوری نظام کا کفر واضح نہیں ہوا تھا لہٰذا شریعت میں یہ ایک عذر ہے، اور عذر کے ہوتے ہوئے کسی خاص شخص کی تکفیر نہیں کی جا سکتی۔

Adyan Ki Jang Deen Islam Ya Deen Jamhooriyat 25

Bermuda tikon aur dajjal by Maulana Asim Umar

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top