Shaheed Osama Sahara se Samandar Tak
| عنوان | صفحہ |
|---|---|
| حروف آغاز | باب نمبر 1 |
| لشکر امام مہدی کے ہر اول دستے کا سالار شہید اسامہ | |
| شیخ اسامہ کا امت مسلمہ کے نام اخری پیغام | 19 |
| اسامہ بنام امت مسلمہ | 27 |
| شیخ اسامہ کی شہادت پر امارت اسلامیہ افغانستان کا اعلامیہ | 36 |
| شہید اسامہ صحرا سے سمندر تک | |
| گھریلو حالات اور خاندانی پس منظر | 38 |
| تعلیم اور دین سے محبت | 39 |
| ازدواجی زندگی | 41 |
| جہاد افغانستان میں شرکت | 41 |
| مکتب الخدمات | 42 |
| عرب کا شاہزادہ | 42 |
| شیخ اسامہ اور فقہ حنفی | 47 |
| شیخ اسامہ کی والدہ کا خواب | 48 |
| اسامہ اپنا وعدہ کب پورا کرو گے؟ | 48 |
| حضرت خالد بن ولید کی شخصیت کا آیئنہ دار | 49 |
| ماں کی خواہش اور قدرت کا انعام | 50 |
| گھڑ سواری اور شیخ اسامہ | 50 |
| امام مہدی کے لئے مختص کی گئی رقم | 50 |

| عنوان | صفحہ |
|---|---|
| جہاد افغانستان میں شیخ کی خدمات | باب نمبر 2 |
| تنظیم القاعدہ والجہاد | 52 |
| شیخ اسامہ روس کے خلاف جہاد میں | 53 |
| معرکہ جاجی کی کہانی شیخ کی زبانی | 55 |
| شیخ اسامہ نے جہاد افغانستان سے کیا سیکھا | 57 |
| القاعدہ کا قیام اور مقاصد | 58 |
| سعودی عرب واپسی اور امریکی جزیرہ العرب میں آمد | 59 |
| شیخ اسامہ کی جزیرۃ العرب میں قائم امریکی اڈوں کی نشاند ہی | 63 |
| امت کے وسائل کا پاسبان | 63 |
| امریکی منصوعات کا بائیکاٹ | 64 |
| سوڈان میں پانچ سال قیام | 65 |
| سوڈان سے افغانستان ہجرت کے سفر کی روداد شیخ اسامہ کی زبانی | 66 |
| امریکہ کے خلاف اعلان جہاد اور مسجد اقصیٰ کی آزادی | 67 |
| نائن الیون اور شیخ کی شخصیت کا عروج | باب نمبر 3 |
| شیخ کے اوصاف، اتباع سنت، حیا اور غیرت | 69 |
| صلیبی جنگ کے دس سالوں میں مجاہدین کی قیادت | 70 |
| شیخ کی خواہش شہادت | 71 |
| شیخ اسامہ کی سی آئی سے سے خفیہ جنگ | 71 |
| شیخ اسامہ کی شہید یا گرفتار کرنے کی امریکی کوشش | 72 |
| سی آئی اے کے بن لا دن یونٹ کا قیام | 73 |

| عنوان | صفحہ |
|---|---|
| سوڈان اور افغانستان میں کروز میزائلوں سے حملے | 73 |
| Operation JawBreaker-5 | 73 |
| تورا بورا کا تاریخی معرکہ | 74 |
| شیخ اسامہ کی حکمت عملی اور امریکہ کا معاشی نقصان | 76 |
| شیخ اسامہ بن لادن ڈاکٹر عبد اللہ عزام کی نظر میں | 77 |
| شیخ اسامہ کی بیماری کے بارے میں پھیلائی جھوٹی خبروں کی حقیقت | 80 |
| شیخ اسامہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد نصرہ اللہ کی نظر میں | 82 |
| شیخ اسامہ کے کارہائے نمایاں | باب نمبر 4 |
| مسجد اقصیٰ کو دنیا کا مسلہ نمبر ایک بنانا | 89 |
| بلادحرمین پر امریکی قبضے کو نمایاں کرنا | 90 |
| حرمت رسول کا تحفظ | 92 |
| مقصد زندگی کی وضاحت | 92 |
| جہاد کو امریکا اور اس کے حواریوں سے پاک کرنا | 97 |
| اسلامی خطوں میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ کی دعوت | 100 |
| شیخ اسامہ کا چار خطوں کو داراسلام بنانے کی خواہش | 102 |
| پاکستان | 103 |
| تحفظ حرمین کا قیام | 104 |
| امارت اسلامی افغانستان کی سرپرستی | 104 |
| دفاع افغانستان کونسل | 105 |
| سعودی عرب | 105 |
| سوڈان | 106 |

| عنوان | صفحہ |
|---|---|
| افغانستان | 109 |
| طالبان سے تعلق اور امیر المومنین | 109 |
| دنیا کے مسلم خطوں میں جہاد کی اٹھان میں شیخ اسامہ کا کردار | 109 |
| یمن | 112 |
| صومالیہ | 114 |
| عراق | 116 |
| الجزائر | 117 |
| شیشان | 118 |
| بوسنیا | 119 |
| جموں و کشمیر | 120 |
| فلپائن | 120 |
| چین کے صوبہ سنکیانگ | 122 |
| امیر المومنین ملا عمر نصرہ اللہ کی بعیت شرعی فریضہ | 122 |
| شیخ کے مختلف بیانات سے اقتباسات | 128 |
| اہلیہ شیخ امل الصداح کا شیخ اسامہ کے ساتھ شہادت کا فیصلہ | 136 |
| شیخ اسامہ کی اہلیہ کا عربی اخبار سے انٹرویو | 137 |
| شیخ اسامہ کی شہادت | باب نمبر 5 |
| صلیبی آپریشن “جیرونیمو” | 138 |
| موبائل کا حال جس نے ایبٹ آباد پہنچایا | 144 |
| شیخ اسامہ کی شہادت پر یہود و نصاریٰ کے بیانات | 152 |

| عنوان | صفحہ |
|---|---|
| شیخ اسامہ کی شہادت، عرب ذرائع ابلاغ کا رد عمل | 155 |
| شیخ اسامہ کے اہل خانہ کی رہائی فرض بھی، قرض بھی | 157 |
| ابتاہ (اے میرے ابو) | 158 |
| ایران میں اسیر رہنے والے شیخ کے اہل خانہ | 160 |
| دنیا بھر میں شیخ اسامہ کے حق میں مظاہرے | 161 |
| پاکستانی علمائے کرام کا شیخ اسامہ کو خراج تحسین اور تاثرات | باب نمبر 6 |
| مفتی نظام الدین شامزئی شہید کا ایک یاد گار فتویٰ | 163 |
| مفتی رشید احمد صاحب بانی جامعہ الرشید ہفت روزہ ضرب مومن کراچی | 164 |
| مفتی مولانا عتیق الرحمنٰ کے شیخ کے بارے میں تاثرات | 165 |
| مولانا عبد اللہ شہید لال مسجد اسلام آباد کا قصیدہ | 166 |
| جرنیل اسلام مولانا اعظم طارق شہید کا شیخ اسامہ پر بیان | 169 |
| شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب دامت برکاتہم العالیہ | 180 |
| حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ المدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ | 180 |
| مفتی داؤد صاحب مدظلہ العالیٰ، جامعہ اشرافیہ لاہور | 181 |
| مولانا عبدالمالک صاحب، مرکز علوم اسلامیہ لاہور | 181 |
| مفتی ابو محمد امین اللہ پشاوری صاحب حفظ اللہ | 182 |
| مولانا مفتی اسماعیل طور و مدظلہ العالی جامعہ اسلامیہ راولپنڈی | 182 |
| مولانا سید ضیاء الدین صاحب مدظلہ العالی | 182 |
| مولانا عصمت اللہ امیر جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) خراج تحسین | 182 |

| عنوان | صفحہ |
|---|---|
| مولانا عبدالغفور حیدری جمعیت علمائے اسلام (ف) کا خراج تحسین | 183 |
| مفتی کفایت اللہ ایم پی اے جمعیت علمائے اسلام (ف) کا خراج تحسین | 183 |
| قائد مجلس احرار سید عطاء المومن شاہ بخاری دامت برکاتہم | 184 |
| سینیٹر خالد سومرو | 184 |
| شیر کی موت پر ہمیشہ کتے رقص کرتے ہیں | 184 |
| حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جان صاحب دامت برکاتہم | 184 |
| حضرت مولانا مشتاق صاحب دامت برکاتہم العالیہ و جامعہ فاروقیہ | 186 |
| راولپنڈی | 190 |
| اسامہ اسلام سے تھا، اسامہ سے اسلام نہیں تھا۔ | 190 |
| حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم کے پوتے مولانا محمد ابراہیم صاحب مدظلہ العالی | 197 |
| شیخ اسامہ کی شہادت آج لاکھوں شہادتوں سے بڑی شہادت ہے | 197 |
| مولانا عبدالستار صاحب مدظلہ العالیٰ مسجد بیت السلام، ڈیفنس کراچی | 201 |
| مولانا محمد سلیمان بالا کوٹی مدظلہ العالیٰ | 201 |
| عالمی تحریک جہاد کا اسامہ کی شہادت پر خراج تحسین | باب نمبر 7 |
| شیخ ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظ اللہ | 203 |
| اسامہ کی شہادت پر دولتہ العراق الاسلامیہ کا بیان | 204 |
| ابو بکر الحسینی البغدادی عراق | 204 |
| شیخ ابو بصیر ناصر الوحیشی (امیر عالمی جہاد فی جزیرۃ العرب) | 205 |

| عنوان | صفحہ |
|---|---|
| شیخ ابو مصعب عبدالودود حفظ اللہ (امیر عالمی جہاد فی بلا المغرب) | 205 |
| قیادت عامہ حرکتہ الشباب المجاھدین | 207 |
| شوریٰ جماعت التوحید و الجہاد (بیت المقدس) | 208 |
| عالمی شخصیات کا خراج تحسین | باب نمبر 8 |
| امام کعبہ شیخ عبد الرحمن السدیس کا شیخ اسامہ کو خراج تحسین | 211 |
| جامعتہ الازھر مصر | 212 |
| ریاض الشریعۃ کالج کے سابق ڈین کے تاثرات | 212 |
| جامعہ توحید انڈونیشیا کا خراج تحسین | 212 |
| فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ کی امریکی مذمت | 212 |
| چیچن کمانڈر عمروف | 213 |
| شیخ حامد العلی | 214 |
| ملا عبدالسلام ضعیف کا شیخ اسامہ کو خراج تحسین | 215 |
| اسامہ کے بڑے بیٹے عمر بن لادن اور ان کے خاندان کے تاثرات | 215 |
| برطانوی صحافی یوآن رڈلی مریم کے تاثرات | 215 |
| شہید اسلام اسامہ بن لادن عرب علماء کی نظر میں خراج و تاثرات | باب نمبر 9 |
| لاہور کے ایک میڈیکل کالج کی طالبات کے تاثرات | 223 |
| شیخ اسامہ سیاست دانوں کی نظر میں | 227 |
| کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترو کے تاثرات | 227 |
| نوم چومسکی امریکی دانشور کے تاثرات | 227 |

| عنوان | صفحہ |
|---|---|
| نیوزی لینڈ کے رکن پارلیمنٹ کا شیخ اسامہ کو خراج تحسین | 227 |
| سندھ اسمبلی میں اقلیتی رکن کے تاثرات | 227 |
| صلیبی مصنفین کی آراء | 228 |
| دو سپر پاورز سے ٹکرانے والا تاریخ کا واحد شخص | 234 |
| شیخ اسامہ بن لادن کالم نگاروں کی نظر میں | 238 |
| شیخ اسامہ کی شہادت کا بدلہ، امریکی کمانڈر و مردار | باب نمبر 10 |
| ہیلی کاپٹر کو جھانسا دے کر مار گرایا گیا | 253 |
| وردگ میں تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کی بابت امارت اسلامیہ کا موقف | 254 |
| ہیلی کاپٹر میں ہلاک اہلکار اصل ہیروز تھے، امریکہ | 256 |
| شنیوک کی تباہی | 257 |
| امریکی معیشت افغان جنگ کے باعث تباہ و برباد | |
| امریکا میں آنے والا مالی طوفان اور افغانستان کی جنگ! | 264 |
| اسلام کا ہیرو نمبر 1 (نظم) | 267 |
| References کتابیات | 269 |

شیخ سامہ کی طرف سے امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد نصرہ اللہ کی اطاعت کا تحریری عہد نامہ
“حضرت امیر المومنین! اسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!
اللہ تعالیٰ نے آپ کو شمال کی تازہ ترین فتوحات سے نوازا۔ یہ ہمارے لیے خوش گوارلمحہ ہے کہ ہم آپ کو ان فتوحات پر مبارک باد پیش کریں اور اپنے عہد کی تجدید کریں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، ہم اسلام کی نصرت، اسلام حکومت کے استحکام اور اللہ کے کلمہ کی بلندی کے لیے آپ کے ہاتھوں میں ہاتھ دیں۔ یہاں تک کہ فساد ختم ہو جائے اور دین اللہ کا ہو جائے۔ ہم اس موقع پر اس عہد کا بھی اعادہ کرتے ہیں کہ آپ ہمارے شرعی امیر ہیں۔ ہم آپ کی نصرت اور اطاعت اسی طرح واجب ہے جس طرح شرعی حاکم کے لیے واجب ہوتی ہے۔ ہم تمام مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آپ کی نصرت و حمایت اور آپ سے مل کر ہر وہ مدد کریں جو وہ کر سکتے ہوں”۔
واسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ’
اپ کا بھائی اسامہ بن لادن
“حضرت امیر المومنین! اسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!
اللہ تعالیٰ نے آپ کو شمال کی تازہ ترین فتوحات سے نوازا۔ یہ ہمارے لیے خوش گوارلمحہ ہے کہ ہم آپ کو ان فتوحات پر مبارک باد پیش کریں اور اپنے عہد کی تجدید کریں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، ہم اسلام کی نصرت، اسلام حکومت کے استحکام اور اللہ کے کلمہ کی بلندی کے لیے آپ کے ہاتھوں میں ہاتھ دیں۔ یہاں تک کہ فساد ختم ہو جائے اور دین اللہ کا ہو جائے۔ ہم اس موقع پر اس عہد کا بھی اعادہ کرتے ہیں کہ آپ ہمارے شرعی امیر ہیں۔ ہم آپ کی نصرت اور اطاعت اسی طرح واجب ہے جس طرح شرعی حاکم کے لیے واجب ہوتی ہے۔ ہم تمام مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آپ کی نصرت و حمایت اور آپ سے مل کر ہر وہ مدد کریں جو وہ کر سکتے ہوں”۔
واسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ’
اپ کا بھائی اسامہ بن لادن

جلال الدین بادشاہ نہ تھا صرف خوارزم کا شہزادہ تھا۔ وہ چنگیز کی مزاحمت کے سلسلے میں حکمت عملی پر اختلاف کی وجہ سے اپنے والد سے الگ ہو گیا تھا۔ اس نے چنگیز کے مقابلے کے لیے اپنی اہلیت اور اپنے وسائل سے عسکری قوت فراہم کی اور ریاستی قوت کے بغیر چنگیز خان کو چیلنج کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس نے کئی معرکوں میں چنگیز خان کو شکست دی۔ اس نے فوجی کمک کے لیے خلیفہ بغداد سے مدد طلب کی۔ خلیفہ نے ایک لاکھ فوجی فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر چنگیز خان کے سفیر نے خلیفہ کو چنگیز کی طاقت سے ڈرا دیا۔ چنگیز کے سفیر نے کہا کہ جلال الدین تو آج کی اصطلاح میں دہشت گرد ہے۔ اس کا کوئی ٹھور ٹھکانہ نہیں۔ وہ بغداد کو چنگیز سے لڑا کر خود بغداد کی خلافت پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ چنانچہ خلیفہ بغداد نے وعدے کے باجود جلال الدین کی مدد سے انکار کر دیا۔ لیکن جلال الدین بغداد اور چنگیز خان کی یلغار کے درمیان آخری چٹان تھا۔ یہ چٹان ہٹی تو تاتاریوں نے دیکھتے ہی دیکھتے بغداد پر یلغار کرکے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔

یکم مئی 2011ء کی رات تین ہیلی کاپٹر بلال ٹاؤن کی فضاؤں میں آئے۔ اس دوران میں ایک ہیلی کاپٹر سے امریکی مرینز اسامہ بن لا دن کے گھر میں اتارے گئے۔ اسامہ کے گھر میں حفاظت پر مامور مجاہدین نے امریکی کمانڈوز پر فائرنگ کی اور ان کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں معتدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، مقابلے کے دوران میں ہی مجاہدین نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر گرایا۔ اسامہ کے محافظ اور ایک فرزند خالد بن لادن صلیبیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ امریکی فوجی بالائی منزل پر شیخ کی تلاش میں گئے، جہاں اسامہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم تھے، وہاں ان کے فائرنگ سے اسامہ کی ایک اہلیہ شہید ہو گئیں۔
اس واقعے میں اسامہ کے ایک بیٹے حمزہ بن لادن کے محفوظ طریقہ نکل جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ اسامہ کے دو ازواج، دس سالہ صفیہ اور دیگر کچھ خواتین کو بعد ازاں پاکستانی فوج نے گرفتار کر لیا۔

کہ اس اثنا میں عراقی صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کر دیا۔ جس کی وجہ سے سعودی حکمران ڈر گئے اور اس کے خلاف عالم کفر کی لونڈی اقوام متحدہ سے مدد لینے کی ٹھان لی جس کی ہم نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ اے شاہ ہم عراقیوں سے نمٹ لیں گے تم اس پاک سر زمین پر کفار کے ناپاک قدم مت جماؤ کیوں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے دور میں ان کے ناپاک قدموں کو ہمارے آباؤ اجداد نے برداشت نہیں کیا تو ہم یہ کیسے کر سکیں گے۔ ہماری بات کو رد کرتے ہوئے شاہ نے وہ قدم اٹھالیا جو آج تک تمام مسلمانوں کے لیے و بال جان بن گیا۔ میری مخالفت کی وجہ سے مجھے نظر بند کر دیا گیا۔ مگر اللہ کے شہروں کو زیادہ دیر پنجروں میں رہنے کی عادت نہیں تب مجھے سعودی عرب بدر کر دیا گیا اور میں خرطوم چلا گیا۔

گھریلو حالات اور خاندانی پس منظر
شیخ اسامہ بن محمد بن لادن 10 مارچ 1957ء کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا تعلق شام سے تھا۔ شیخ اسامہ کے خاندان کا تعلق یمن سے ہے۔ جنوبی یمن کا ساحلی صوبہ حضرت الموت عدن کی بندرگاہ کے مشرق میں واقع ہے۔

محمد بن لادن شاہ سعود (دوم) کے قریبی دوست سمجھے جاتے تھے۔ جب شاہ فیصل نے اقتدار سنبھالا تو ملک شدید ترین اقتصادی بحران کا شکار تھا۔ محمد بن لادن نے اس نازک مرحلے پر حکومت کا بھرپور ساتھ دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق چھ ماہ تک سعودی حکومت کے ملازمین کی تنخواہیں اپنی جیب سے ادا کیں۔

10 سال کی عمر میں شیخ نے برومانا ہائی سکول میں داخلہ لیا۔ یہ سکول لبنان کے علاقے برومانا میں واقع تھا۔ یہاں انہوں نے ایک سال سے کم عرصہ گزارا۔ برومانا ہائی سکول چھوڑنے کے بعد وہ کچھ عرصہ لتا کیہ میں رہے۔ پھر وہ واپس جدہ چلے گئے۔ 1969-1976ء کے دوران میں انہوں نے الگر ماڈل سکول میں تعلیم حاصل کی۔
1979ء میں انہوں نے جامعہ ملک عبدالعزیز سے ایم پی اے (ماسٹر آف پبلک ایڈ منسٹریشن) کی ڈگری حاصل کی اور جامعہ ملک السعود سے اسلاملک اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری لی۔
شیخ کو دین سے محبت ان کے والد محمد بن لا دن سے ورثے میں ملی۔ ان کا خاندان جزیرہ عرب کے عام لوگوں کی طرح امام احمد بن حنبل کا مقلد ہے۔ شیخ نے کبھی مغربی ممالک میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ اس حوالے گردش کرنے والی خبریں سراسر کذب وافترا پر مبنی ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں۔

سعودی حکومت، مسجد کو اس وقت تک نہ چھڑا سکی جب تک فرانسیی افواج نے اس کی مدد نہ کی۔
جہاد افغانستان میں شرکت:
انہوں ںے یونیورسٹی کے بعض اساتذہ سےراہنمائی لی اور کراچی آگئے۔
شروع میں اسامہ ایک ماہ تک خفیہ طور پر پاکستان میں رہے اور حالات کا بغور جائزہ لیتے رہے۔ پھر وہ سعودی عرب واپس چلے گئے۔ وہاں انہوں نے دیگر عرب شیوخ میں مجاہدین کی مدد کے لیے مہم چلائی۔ ان کی تحریض سے ہزاروں عرب نوجوانوں نے میدان جہاد کا رخ کیا آپ نے ہی ان کے سفری اخراجات اٹھائے اور ان کے لیے معسکر تعمیر کیے۔ اسامہ سعودی عرب سے بڑی تعداد میں سامان اور سرمایہ اکٹھا کرکے پاکستان آئے اور افغانی بھائیوں کے ساتھ جہاد میں حصہ لینے لگے۔
جہاد افغانستان میں شرکت:
انہوں ںے یونیورسٹی کے بعض اساتذہ سےراہنمائی لی اور کراچی آگئے۔
شروع میں اسامہ ایک ماہ تک خفیہ طور پر پاکستان میں رہے اور حالات کا بغور جائزہ لیتے رہے۔ پھر وہ سعودی عرب واپس چلے گئے۔ وہاں انہوں نے دیگر عرب شیوخ میں مجاہدین کی مدد کے لیے مہم چلائی۔ ان کی تحریض سے ہزاروں عرب نوجوانوں نے میدان جہاد کا رخ کیا آپ نے ہی ان کے سفری اخراجات اٹھائے اور ان کے لیے معسکر تعمیر کیے۔ اسامہ سعودی عرب سے بڑی تعداد میں سامان اور سرمایہ اکٹھا کرکے پاکستان آئے اور افغانی بھائیوں کے ساتھ جہاد میں حصہ لینے لگے۔

مکتب الخدمت
1980ء میں شیخ عبد اللہ عزام پشاور یونیورسٹی ٹاؤن میں مکتب الخدمت قائم کیا۔ جبککہ 1984ء میں شیخ اسامہ نے “بیت الانصار” کے نام سے جہادی گروپ قائم کیا۔ شیخ مالی طور پر ان کے سب سے بڑے پشتی بان تھے۔ انہوں نے بہت سے گیسٹ ہاؤس کرائے پر لئے ہوئے تھے۔ جہاں عرب سے آنے والے مجاہدین کو ٹھہرایا جاتا تھا اور انہیں فکری و جسمانی تربیت دی جاتی تھی۔
1989ء میں جب شیخ عبد اللہ عزام ایک کار بم دھماکے میں شہید کر دئے گئے تو عرب مجاہدین کے قائدے کے طور پر شیخ کی شخصیت ابھر کر سامنے ائی۔
1980ء میں شیخ عبد اللہ عزام پشاور یونیورسٹی ٹاؤن میں مکتب الخدمت قائم کیا۔ جبککہ 1984ء میں شیخ اسامہ نے “بیت الانصار” کے نام سے جہادی گروپ قائم کیا۔ شیخ مالی طور پر ان کے سب سے بڑے پشتی بان تھے۔ انہوں نے بہت سے گیسٹ ہاؤس کرائے پر لئے ہوئے تھے۔ جہاں عرب سے آنے والے مجاہدین کو ٹھہرایا جاتا تھا اور انہیں فکری و جسمانی تربیت دی جاتی تھی۔
1989ء میں جب شیخ عبد اللہ عزام ایک کار بم دھماکے میں شہید کر دئے گئے تو عرب مجاہدین کے قائدے کے طور پر شیخ کی شخصیت ابھر کر سامنے ائی۔

صلیبی جنگ شروع ہونے سے پہلے شیخ (اسامہ بن لادن) کے کچھ ساتھیوں کو ایران نے گرفتار کر لیا، تو شیخ (اسامہ بن الادین) نے انہیں دھمکی دی اور کہا کہ “انہیں باعزت رہا کر دو، ہم نے ابھی تک اپنی بندوقوں کا رخ تمہاری طرف نہیں موڑا” چنانچہ انہوں نے ان سب کو رہا کر دیا۔

شیخ اسامہ کی والدہ کا خواب
جب شیخ (اسامہ بن لادن) کو سوڈان سے چلے جانے کو کہا گیا تو شیخ نے فرمایا کہ میں اپنی ماں سے حکم کے بغیر کہیں نہیں جا سکتا۔ پھر انہوں نے اپنی والدہ کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ چند روز کے بعد تمہیں بتاؤں گی کہ کہاں جانا چاہئے۔
چند روز بعد والدہ نے اپنے بیٹے کو فون پر بتایا کہ انہوں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسری طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور درمیان میں اسامہ بن لادن بیٹھے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسامہ کو تھپکتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ اسے کہاں بھیجیں؟ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ اسے افغانستان بھیج دیتے ہیں۔
جب شیخ (اسامہ بن لادن) کو سوڈان سے چلے جانے کو کہا گیا تو شیخ نے فرمایا کہ میں اپنی ماں سے حکم کے بغیر کہیں نہیں جا سکتا۔ پھر انہوں نے اپنی والدہ کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ چند روز کے بعد تمہیں بتاؤں گی کہ کہاں جانا چاہئے۔
چند روز بعد والدہ نے اپنے بیٹے کو فون پر بتایا کہ انہوں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسری طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور درمیان میں اسامہ بن لادن بیٹھے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسامہ کو تھپکتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ اسے کہاں بھیجیں؟ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ اسے افغانستان بھیج دیتے ہیں۔

ایک بار آپ گھوڑے سے گرے، آپ کی ہڈی ٹوٹ گئی، پاکستان کے معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر عامر عزیز نے آپ کا علاج کیا اور اس ‘جرم’ کی پاداش میں ڈاکٹر عامر عزیز کو آئی ایس ائی اور سی ائی اے نے کئی ماہ تک گرفتار رکھا۔
